لوٹ کھسوٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غارت گری، رہزنی، قزاقی، ڈاکا زنی۔ "شہر پر قبضے کے بعد فوجی افسروں کو ہر طرح آزاد کر دیا گیا ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوا۔"      ( ١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ٧٩ ) ٢ - استحصال۔ "جس میں مغربی معاشرے کی معاشی لوٹ کھسوٹ بھی نہ ہو۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٣٣٧ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'لوٹ' کے بعد ہندی اسم 'کھسوٹ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٤ء کو "مذاق العارفین" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غارت گری، رہزنی، قزاقی، ڈاکا زنی۔ "شہر پر قبضے کے بعد فوجی افسروں کو ہر طرح آزاد کر دیا گیا ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوا۔"      ( ١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ٧٩ ) ٢ - استحصال۔ "جس میں مغربی معاشرے کی معاشی لوٹ کھسوٹ بھی نہ ہو۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٣٣٧ )

جنس: مؤنث